بھٹکل:14؍ جنوری (ایس اؤ نیوز) ہندوستان کے سبھی بی جےپی ارکان اسمبلی متحد ہوکر این آر سی ، سی اے اے کے ذریعے اس ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کریں گے، امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں این آر سی ، سی اے اے ، رام مندر، تین طلاق سب کو پیش کر دیا ہے ، جس پر ہم سب خوش ہیں۔ مسلمانوں کو اس ملک میں رہنا ہے تو پھر ہندو بن کر رہنا ہوگا، مسجدوں کو مندروں میں تبدیل کیا جائے گا، مسلم عورتوں کو ہندو مردوں کے ساتھ شادی کرنی ہوگی، اسی طرح کی کئی گیڈر بھپکیوں کے ساتھ بھٹکل کی کئی مساجد کے صدر کے نام خط موصول ہوئے ہیں اور مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ یا تو وہ ہندو بن کر رہیں یا پھر پاکستان یا بنگلہ دیش چلے جائیں۔
بلاری ضلع ہوسپیٹ کے رکن اسمبلی آنند سنگھ اور بلاری کے رکن اسمبلی بی ، سوم شیکھر ریڈی کے نام سے بھٹکل کی فاروقی مسجد، صدیقی مسجد اور نوائط کالونی تنظیم جمعہ مسجد میں خط موصول ہونے کی تصدیق ہوئی ہے،مگر خبر ملی ہے کہ ان تین مساجد کے علاوہ بھٹکل سمیت اُڈپی اور مینگلور کی بھی کئی ایک مساجد میں یہی خط بذریعہ پوسٹ موصول ہوئے ہیں۔
خط کنڑا فونٹ کے ساتھ ہندی زبان میں لکھا گیا ہے، خط کے کور پر فروم اڈریس میں بلاری رکن اسمبلی بی سوم شیکھر ریڈی اور پتہ درج ہے جبکہ خط کے آخر میں دستخط وجئے نگر، ہوسپیٹے، ضلع بلاری رکن اسمبلی آنند سنگھ کے نام کے ساتھ درج ہے، خط میں ہوسپیٹے رکن اسمبلی کے دفتر کا سیل بھی لگا ہے اور فون نمبر بھی درج کیا گیا ہے۔
خط میں بی جے پی لیڈران کی تعریف کے ساتھ شہریت قانون کی حمایت کی گئی ہے اور مذہب اسلام کے ماننےوالوں کو اُکسانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔
16 گیڈر بھپکی دھمکیوں بھرے خط میں مسلمانوں کو کلمہ کے بجائے منتر پڑھنے کی مانگیں خط میں کی گئی ہیں۔ خط کو لے کر شہر میں کافی برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ایک طرف فاروقی مسجد کے سابق سکریٹری جناب ثناء اللہ گوائی نے بتایا ہے کہ انہوں نے اس تعلق سے بھٹکل ٹاون پولس تھانہ کو خبر کی ہے اور FIR درج کرنے کے لئے کہا ہے، وہیں نوائط کالونی تنظیم جمعہ مسجد کے ذمہ دارمولوی عبدالرقیب ایم جے ندوی جو قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے جنرل سکریٹری بھی ہیں نے واضح کیا ہے کہ وہ اس خط کو لے کر ضلع کے ایس پی کو شکایت کریں گے اوراس طرح کے دھمکی آمیز خط روانہ کرنے والوں کا پتہ لگانے اور ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کرنے کا مطالبہ کرنے والے ہیں۔ صدیقی مسجد کے جنرل سکریٹری مولوی عزیز الرحمن ندوی نے بتایا کہ خط کو لے کر ان کی انتظامیہ سخت احتجاج کرنے کامنصوبہ بنارہی ہے۔
خبر ہے کہ ان تین مساجد کے ساتھ ساتھ بھٹکل کی کئی دیگر مساجد میں بھی اس طرح کا خط موصول ہوا ہے، خبر یہ بھی ہے کہ بھٹکل کے اطراف کے علاقوں کی مساجد میں بھی اسی طرح کا خط ملا ہے۔